معیشت اور اس کی بہتری کے آثار ہر گزرتے روز دھندلے ہونے کے سبب عام تاثر ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کو ہے۔ یہ اہم ترین معاملہ سیاست کی نذر کیا جانا اپنی جگہ، کچھ زمینی حقائق ایسے ضرور ہیں جن کی بنا پر ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ سر پرمنڈلاتا نظر آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان دیوالیہ کب ہوگا اور کیا کوئی چیز اس ایٹمی طاقت کے حامل ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے؟ ملک دیوالیہ ہونے کے خدشات کے حساس ترین معاملے پر لوگ دو حدوں کو چھوئے ہوئے ہیں، ایک وہ جو پاکستان کا موازانہ سری لنکا سے کر رہے ہیں اور 9 ماہ سے ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ ملک اب دیوالیہ ہوا کہ تب جبکہ دوسرے وہ ہیں جو قرضوں میں جکڑے پاکستان کا موازانہ جاپان جیسے صنعتی ملک سے کر رہے ہیں، اس طبقے کا خیال ہے کہ اگر ملک محض قرض لینے ہی سے دیوالیہ ہوتے تو جاپان پر یہ کلنک کا ٹیکہ کب کا لگ چکا ہوتا۔ چونکہ پی ٹی آئی کی حکومت مہنگائی کے نام پر گراکر اقتدار سنبھالنے والے بھی مہنگائی کا وہ طوفان لائے ہیں کہ الامان الحفیظ ، اس لیے ملک کی معاشی حالت پر ٹھوس بات چیت ہونا ناممکن ہے۔ نتیجہ حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں ہی اس اشو پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ...